جوکووچ کی شکست ،میدویدیف یو ایس اوپن کے نئے بادشاہ بنے

جوکووچ کی شکست ،میدویدیف یو ایس اوپن کے نئے بادشاہ بنے
جوکووچ کی شکست ،میدویدیف یو ایس اوپن کے نئے بادشاہ بنے

نیویارک : روس کے عالمی نمبر دو ٹینس کھلاڑی ڈینیل میدویدیف نے اتوار کی رات دنیا کے نمبر ایک کھلاڑی سربیا کے نوواک جوکووچ کا سال میں چاروں گرینڈ سلیم خطاب جیتنے کا خواب توڑتے ہوئے یوایس اوپن 2021کے مردوں کا سنگلز خطاب جیت لیا۔ 
میدویدیف نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹاپ سیڈ جوکووچ کو سیدھے سیٹوں میں 6-4، 6-4، 6-4سے شکست دی۔اس سال فروری میں آسٹریلیا اوپن کے فائنل میں جوکووچ سے ہارنے والے 25سالہ میدویدیف نے اپنے کیریئر کا پہلا گرینڈ سلیم خطاب جیتا جبکہ جوکووچ اس شکست کے ساتھ ایک سیزن میں چار گرینڈ سلیم جیتنے کے ریکارڈ سے چوک گئے ۔
واضح رہے کہ جوکووچ نے اس سال آسٹریلین اوپن ، فرنچ اوپن اور ومبلڈن خطاب جیتا تھا اور یو ایس اوپن جیتنے کے بعد ، وہ آسٹریلیا کے راڈ لیور کے بعد52برسوں میں پہلی مرتبہ سیزن میں چار گرینڈ سلیم جیتنے والے ٹینس کھلاڑی بن جاتے ، لیکن ان کا یہ خواب ٹوٹ گیا۔ 
یو این آئی/اسپوتنک کی رپورٹ کے مطابق،اس شکست نے جوکووچ کا اسپین کے رافیل نڈال اور سوئزرلینڈ کے راجر فیڈرر کے سب سے زیادہ گرینڈ سلیم جیتنے کے معاملے میں آگے نکلنے کا خواب بھی چکنا چور کردیا۔ تینوں کے پاس ایک برابر 20گرینڈ سلیم خطاب ہیں۔ دوسری طرف میدویدیف اس خطاب کے ساتھ گرینڈ سلیم خطاب کو جیتنے والے یوگینی کافیلنیکوف اور ایم صافن کے بعد تیسرے روسی کھلاڑی بن گئے ۔
میدویدیف نے اپنی جیت کے بعد کہا کہ آپ نہیں جانتے کہ آپ اپنے کیریئر میں کب کوئی گرینڈ سلیم جیت سکتے ہیں۔ میں اس فتح سے بہت خوش ہوں۔ یہ میرا پہلا گرینڈ سلیم ہے مجھے نہیں معلوم کہ جب میں دوسرا یا تیسرا گرینڈ سلیم جیتوں گا تو میں کیسا محسوس کروں گا۔ یہ میرا پہلا گرینڈ سلیم ہے اور میں بہت خوش ہوں۔
اپنی سیمی فائنل جیت کے بعد میدویدیف نے کہا کہ وہ فائنل میں جوکووچ کے خلاف سخت مقابلہ کریں گے اور اپنے وعدے کو پورا کرکے دکھایا۔
جوکووچ فائنل کے دوران مایوس نظر آئے اور اپنے ہاتھ سے مقابلے کو پھسلنے دیا۔ دوسرے سیٹ میں وہ پہلے دو ریٹرن گیموں میں روسی کھلاڑی کی سروس بریک کرنے سے چوک گئے جس کے بعد وہ واپسی نہیں کرسکے ۔
میدویدیف دو سال قبل یو ایس اوپن کے فائنل میں پہنچے تھے ، لیکن نڈال سے پانچ سیٹوں میں ہار گئے تھے ۔ میدویدیف نے پہلے گیم سے ہی میچ سے میچ پر اپنی گرفت مضبوط رکھی اور دو گھنٹے 15منٹ میں اپنے کیریئر کی سب سے بڑی جیت حاصل کی۔
روسی کھلاڑی نے ٹرافی کی تقریب کے دوران کہا کہ میں اپنے مداحوں اور نوواک سے معافی مانگنا چاہتا ہوں۔ میں نے یہ کسی سے نہیں کہا لیکن آج میں سب کے سامنے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ میرے لیے آپ تاریخ کے عظیم ٹینس کھلاڑی ہیں۔ ''
میدویدیف نے میچ میں آٹھ مواقع پر چار بریک پوائنٹس حاصل کئے جبکہ چھ موقعوں پر صرف ایک بار اپنی سروس گنوا ئی۔