ہندوستان اور چین کے فوجیوں کے درمیان ایک بار پھر معمولی جھڑپ

ہندوستان اور چین کے فوجیوں کے درمیان لائن آف ایکچول کنٹرول کے نزدیک اروناچل پردیش کے توانگ سیکٹر کے یانگسی میں گزشتہ ہفتے معمولی جھڑپ ہوئی تھی معتبرذرائع نے بتایا کہ علاقہ میں دونوں افواج کے اہلکاروں کا معمول کی گشت کے دوران آمنا سامنا ہوااور کہا سنی ہوئی ذرائع کا کہنا ہے کہ باؤنڈری لائن کے تعین نہ ہونے کی وجہ سے لائن آف ایکچول کنٹرول کے دونوں ممالک کے الگ الگ تصورات کی وجہ سے اس طرح کے ٹکراؤ ہوتے رہتے ہیں

ہندوستان اور چین کے فوجیوں کے درمیان ایک بار پھر معمولی جھڑپ

 ہندوستان اور چین کے فوجیوں کے درمیان لائن آف ایکچول کنٹرول کے نزدیک اروناچل پردیش کے توانگ سیکٹر کے یانگسی میں گزشتہ ہفتے معمولی جھڑپ ہوئی تھی  معتبرذرائع نے بتایا کہ علاقہ میں دونوں افواج کے اہلکاروں کا معمول کی گشت کے دوران آمنا سامنا ہوااور کہا سنی ہوئی ذرائع کا کہنا ہے کہ باؤنڈری لائن کے تعین نہ ہونے کی وجہ سے لائن آف ایکچول کنٹرول کے دونوں ممالک کے الگ الگ تصورات کی وجہ سے اس طرح کے ٹکراؤ ہوتے رہتے ہیں اور اس معاملے میں بھی تنازعہ کو بات چیت سے حل کر دیا گیا ۔ اس دوران کسی بھی نقصان نہیں ہوا ۔
گزشتہ سال وادی گلوان میں چینی فوجیوں کے ساتھ پرتشدد جھڑپوں کے بعد یہ اروناچل پردیش سے متصل سرحد پر پہلی باردونوں ممالک کے فوجیوں کا آمنا سامنا ہوا ہے ۔ ذرائع نے کہا کہ سرحدی علاقے سے متعلقہ موجودہ معاہدوں اور پروٹوکول پر عمل کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان امن اور دوستی کو برقرار رکھا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عام طور پر دونوں افواج اپنے اپنے تصورات کے مطابق اپنےعلاقوں میں باقاعدہ گشت کرتی ہیں اور جب بھی دونوں ممالک کے فوجی ذاتی طورپرآمنے سامنے ہوتے ہیں ، صورتحال کا حل قائم پروٹوکول اوردونوں فریقوں کی جانب سے قائم نظام کے مطابق کیا جاتا ہے ۔ مسئلہ کے حل کے بعد دونوں ممالک کے فوجی اپنے اپنے علاقوں میں واپس چلے جاتے ہیں ۔
واضح رہے کہ کچھ رپورٹوں میں کہا گیا تھا کہ ہندوستانی فوج نے اروناچل پردیش میں گزشتہ کچھ چینی فوجیوں کو حراست میں لیا تھا۔