برطانیہ کے پناہ گزینوں کی کشتیاں واپس بھیجنے پر فرانس برہم

 رواں برس اب تک 14ہزار100افراد چھوٹی کشتیوں کی مدد سے چینل پار کر کے برطانیہ آچکے ہیں جو گزشتہ سال کی نسبت6ہزار زیادہ ہے

برطانیہ کے پناہ گزینوں کی کشتیاں واپس بھیجنے پر فرانس برہم

لندن، :لندن کی جانب سے انگلش چینل سے مہاجرین کو لے کر آنے والی کشتیوں کو واپس بھیجنے کے منصوبے کی اطلاعات پر برطانیہ اور فرانس کی ٹھن گئی اور پیرس میں اس پر غصے کی لہر دوڑ گئی۔ڈان کی ایک رپورٹ کے مطابق برطانیہ کی مقامی پریس ایسوسی ایشن نیوز ایجنسی کے حوالے سے بتایا گیا کہ رواں برس اب تک 14 ہزار 100 افراد چھوٹی کشتیوں کی مدد سے یہ چینل پار کر کے برطانیہ آچکے ہیں جو گزشتہ سال کی نسبت 6 ہزار زیادہ ہے ۔اگست کے اختتامی ایام میں ایک روز میں ریکارڈ 828 افراد فرانس سے گزرے کیونکہ اسمگلروں نے موسم گرما کے سازگار موسم کا فائدہ اٹھایا۔کشتیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد برطانوی ہوم سیکریٹری پریتی پٹیل کے لیے پشیمانی میں اضافہ کررہی ہے جو امیگریشن اور امن و امان پر سخت ہونے کی وجہ سے مشہور ہیں۔سال 2016 کے بریگزٹ ریفرنڈم میں ملک کو یورپی یونین سے نکالنے کی مہم کا ایک اہم حصہ برطانیہ کی سرحد کا 'کنٹرول واپس لینا' تھا۔تاہم متعدد اخبارات نے کہا ہے کہ انہوں نے اب قانونی مشورہ حاصل کرلیا ہے اور چھوٹی کشتیوں کو برطانیہ کے جنوبی ساحل پر پہنچنے سے پہلے واپس کرنے کے لیے 'واپس دھکیلو' حکمت عملی کے استعمال کی منظوری دے دی ہے ۔
وزیراعظم بورس جانسن کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا کہ 'یہ درست ہے کہ ہماری سرحدی فورس کے پاس اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے حکمت عملی کی صحیح حد ہے '۔
پریتی پٹیل نے اس مسئلے کو روکنے کے لیے پیرس سے وعدہ کیے گئے 54 ملین پا¶نڈ (63 ملین یورو، 75 ملین ڈالر) کو روکنے کی مبینہ دھمکی بھی دی ہے ۔تاہم فرانسیسی وزیر داخلہ جیرالڈ ڈارمنین نے کہا کہ فرانس برطانیہ کی بین الاقوامی سمندری قانون کی خلاف ورزی قبول نہیں کرے گا۔پریتی پٹیل سے ملاقات کے ایک روز بعد ایک ٹوئٹر پیغام میں انہوں نے کہا کہ فرانس سمندری قانون کو توڑنے والے کسی بھی عمل اور مالی بلیک میلنگ کو قبول نہیں کرے گا۔فرانس کی پالیسی ہے کہ جب تک مدد کی درخواست نہ ہو وہ تارکین وطن کی کشتیوں کو نہ روکتا ہے نہ واپس بھیجتا ہے ، اس کے بجائے انہیں برطانوی پانیوں میں لے جاتا ہے ۔اس اقدام پر برطانوی میڈیا کے بریکسٹ سپورٹ کرنے والے طبقات اور لندن میں حکومت میں غصہ پایا جاتا ہے ، جو فرانس پر اپنی ذمہ داریوں سے بچنے کا الزام لگاتے ہیں۔تاہم فرانس اس کی تردید کرتا ہے ، اس حوالے سے وزارت داخلہ کے ذرائع نے کہا کہ گزشتہ برس فرانس نے 62.5 فیصد پناہ گزینوں کو پار کرنے سے روکا جو اس سے پہلے والے سال میں 52 فیصد تھی۔
یو این آئی