معذوری کو اپنی طاقت بناکر کار ڈرائیونگ سیکھنے والے حیدرآباد کے تین فیٹ کے شخص کانام گنیس بک میں درج

معذوری کو اپنی طاقت بناکر کار ڈرائیونگ سیکھنے والے حیدرآباد کے تین فیٹ کے شخص کانام گنیس بک میں درج

خود اعتمادی کے ساتھ معذوری اور اپنی کمزوری کو اپنی طاقت بناتے ہوئے ایک چھوٹے قد کے شخص نے اپنے عزم کے سامنے تمام رکاوٹوں کو چھوٹا بناتے ہوئے بالاخر کا رچلاناسیکھ لیااور دنیا کو یہ بتادیا کہ اگر عزم ہوتو ہر کام کیاجاسکتا ہے۔اس طرح شیولال نامی شخص تمام کے لئے ایک مثال بن گیا ہے۔شہر حیدرآباد کے پرگتی نگر، کوکٹ پلی کے رہنے والے تین فٹ کے شیولال کی عمر47برس ہے۔انہوں نے اپنی زندگی میں کئی طرح کی ناامیدی کا سامنا کیا لیکن ہر بار ایک نئے جوش وجذبہ نے ان میں اس سے لڑنے کی طاقت پیدا کی اورانہوں نے اپنے سفر کوجاری رکھا۔شیولال کار ڈرائیونگ سیکھنا چاہتے تھے جس کے لئے انہوں نے شہر کے کئی ڈرائیونگ اسکولس سے رابطہ کیا تاہم ان اسکولس نے ان کو کار ڈرائیونگ سکھانے سے انکار کردیا۔وجہ صاف تھی کیونکہ شیولال کا قد کافی چھوٹا تھا لیکن انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔ شیولال کے ایک دوست نے کار چلانا سیکھنے میں ان کی مدد کی۔ اس مقصد کیلئے شیولال نے کار میں کچھ تبدیلیاں کیں جس کے لئے تین ماہ لگے۔انہوں نے 6ماہ میں کار ڈرائیونگ سیکھ لی اور ڈرائیونگ لائسنس بھی حاصل کرلیا۔دونوں تلگوریاستوں تلنگانہ اور آندھراپردیش میں گریجویشن کی ڈگری مکمل کرنے والے اورکار چلانے کا لائسنس رکھنے والے چھوٹے قد کے پہلے شخص ہیں۔ اس بارے میں ان کاکہنا ہے کہ چھوٹے قد کا ہونا کوئی بددعا نہیں ہے۔کار چلانا سیکھنے میں دشواریاں پیش آئیں کیونکہ تقریبا 120ڈرائیونگ اسکولس نے کار چلانے کی تربیت دینے سے انکارکردیا تھا کیونکہ ان کی کار اور شیولال کی کار میں کافی فرق تھا۔بعد ازاں اسماعیل نامی دوست کے ذریعہ انہوں نے ڈرائیونگ سیکھی اور مستقل ڈرائیونگ لائسنس حاصل کیا۔شیولال کے ڈرائیونگ سیکھنے کے بعد کئی ریکارڈس بھی انہوں نے بنائے۔ تلگوبُک آف ریکارڈس میں چھوٹے قد کے زمرہ میں کار چلانے والے شخص کے طورپر ان کو سرٹیفکیٹ حاصل ہوا۔ساتھ ہی انڈیا بُک آف ریکارڈ،ورلڈ بُک آف ریکارڈس اور حال ہی میں گنیس بُک آف ریکارڈس میں ان کا نام شامل کیاگیا ہے۔ انہیں سیوابھوشن ایوارڈ بھی دیاگیا ہے۔پہلے لوگ ان کو گاڑی چلانا سکھانے سے منع کردیتے تھے لیکن اب وہی لوگ ان کی ستائش کررہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ وہ آنے والے دنوں میں معذورین کیلئے ڈرائیونگ اسکول کھولنے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔وہ چاہتے ہیں کہ جس طرح کی مشکل ان کو ہوئی ویسی مشکل ان ہی کی طرح نظرآنے والے کم قد والے افراد کو ڈرائیونگ میں نہ ہونے پائے، اس مقصد کے لئے وہ چاہتے ہیں کہ حکومت،یااپنے سینہ میں کشادہ دل رکھنے والے افراد آگے آکر ان کی مدد کریں۔شیولال ان جیسے تمام چھوٹے قد کے لوگوں کے لئے رول ماڈل بننا چاہتے ہیں۔ان کی بیوی کا قد بھی چھوٹا لیکن شیولال سے بڑا ہے۔اس جوڑے کو ایک بیٹا ہے۔ان کی بیوی کا کہنا ہے کہ پہلے تو ان کے شوہر کی کارسیکھنے کی خواہش پر ان کو خوف ہوا لیکن بعدازاں کے عزم کو دیکھنے کے بعد ان پر بھروسہ ہوگیا۔انہوں نے کہا کہ کار چلانے کے دوران ان کے شوہر کے قریب بیٹھنا ان کے لئے کافی خوشی کی بات ہے۔ان کا دعوی ہے کہ تلنگانہ ہی نہیں پورے ملک میں ان کے شوہر چھوٹے قد کے پہلے شخص ہیں جن کے پاس ڈرائیونگ لائسنس ہے۔ ان کے شوہر کو کئی ایوارڈس بھی ملے ہیں جن کو دیکھ کر کافی خوشی ہوتی ہے۔شیولال کا اپنے جیسے لوگوں کے لئے یہ کہنا ہے کہ معذورافراد اپنی معذوری،پر ہچکچائے بغیر سخت محنت کے ذریعہ اپنے خوابوں کو پوراکریں۔