شعر و ادب میں مسئلہ فلسطین کی گونج... معین شاداب

the-echo-of-the-palestinian-issue-in-poetry-and-literature-moin-shadab

شعر و ادب میں مسئلہ فلسطین کی گونج... معین شاداب

مسئلہ فلسطین نے ہر حساس شخص کو متاثر کیا ہے۔ فلسطین عالمی ادب کا موضوع رہا ہے۔ شعراء و ادباء معاشرے کے حساس ترین فرد ہوتے ہیں چنانچہ اس سلسلے میں ان کے قلم کی جنبش فطری ہے۔ اس بڑے المیے کے سبب قلم کاروں کے احساسات درد وکرب کے گوناں گوں تجربات سے گزرے ہیں، جس کے اظہار نے ادب کو وسعت بخشی ہے۔ ناول، کہانی، نظم سمیت نثر اور شاعری کی بہت سی اصناف میں فلسطین کا درد بیان کیا گیا ہے۔ ادب ہی نہیں آرٹ سمیت دیگر فنون لطیفہ میں اس دکھ کی عکاسی کی گئی ہے۔ مسئلہ فلسطین نے عربی ادب کو تو نئی جہت اور عطا کی ہی ہے، دیگر زبانوں کے ساتھ اردو شاعری کو بھی مالا مال کیا ہے۔ اس سے مزاحمتی ادب میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ ارض فلسطین پر یہودیوں کے غاصبانہ قبضے اور وسیع تر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف قلم کاروں نے احتجاج درج کرایا ہے۔

شعراء نے غزہ پر اسرائیلی جارحیت، اسرائیل کے جنگی جرائم کی مذمت کی ہے۔ ساتھ ہی فلسطینیوں کی جدو جہد آزادی، مزاحمت، آشفتہ سری،عزم محکم، یقین کامل، ارض وطن کے لئے جذبہ شہادت، ایمان کی طاقت کو بھی سلام کیا ہے اور ان کا دکھ منظوم کیا ہے۔ فلسطینوں کی جنگ تلواروں کے ساتھ لفظوں سے بھی لڑی جاتی رہی ہے۔ معصوم فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم دیکھ کر شعرا کا کلیجہ پھٹ پڑتا ہے۔ شعرا نے فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کیا ہے، ظلم کرنے والوں پرلعن طعن کی ہے، اسرائیل اور اس کے حلیفوں اور سرپرستوں کو کھری کھوٹی سنائی ہے۔ انبیاء علیہم السلام کی سرزمین پر غاصبانہ صہیونی تسلط کے بعد سے آج تک فلسطینی عوام پر صہیونی مظالم کے خلاف آواز بلند ہے۔ نہ صرف مسلمانوں بلکہ غیر مسلم ادیبوں نے بھی فلسطین پر ہونے والے مظالم کے خلاف آوازبلند کی۔ ان میں ایڈورڈ سعید، حنا اشروی، لیلیٰ خالد، جورج گیلو وغیرہ کے نام شامل ہیں۔